Home / دلچسپ و عجیب / وہ مسلمان حکمران جس کے خزانے میں اتنا سونا تھا کہ ایک بار پانچ مہینے تک ایک ہزار آدمی چار سوترازروں پر سونا تولتے رہے

وہ مسلمان حکمران جس کے خزانے میں اتنا سونا تھا کہ ایک بار پانچ مہینے تک ایک ہزار آدمی چار سوترازروں پر سونا تولتے رہے

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا مسلمان شہنشاہ گذرا ہوگا کہ جس کے خزانوں میں اتنا سونا تھا کہ اسے تولنے کے سینکڑوں ترازوں کئی کئی مہینے لگے رہتے تو اسکا حجم معلوم نہیں کیا جاسکتا تھا ۔یہ مغل شہنشاہ اکبر تھا کہ جس نے ہندوستان کی تمام بڑی ریاستوں ، کشمیر و بنگال پر حکومت کی۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا مسلمان

شہنشاہ گزرا ہوگا کہ جس کے خزانوں میں اتنا سونا تھا کہ اسے تولنے کے سینکڑوں ترازوں کئی کئی مہینے لگے رہتے تو اسکا حجم معلوم نہیں کیا جاسکتا تھا ۔یہ مغل شہنشاہ اکبر تھا کہ جس نے ہندوستان کی تمام بڑی ریاستوں ، کشمیر و بنگا ل اور افغانستان تک پچاس سالہ دور حکمرانی میں فتوحات حاصل کرکے خزانے سونے سے بھر دئےے تھے اور اسے خود معلوم نہیں تھا کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ سونا رکھنے والا شہنشاہ ہے۔ شہنشاہ اکبر کے بیٹے اور جانشین شہزادہ جہانگیر نے اپنی کتاب ”تزک جہاں گیری“ میں سونے کے ان ذخائر کے بارے میں ایسی بات لکھی ہے کہ عقل دنگ ہوکر رہ جاتی ہے ۔وہ لکھتا ہے ” ایک روز شہنشاہ اکبر نے قلیچ خاں کو حکم دیا کہ خزانوں میں جتنا سونا موجود ہے ، اس کا حساب پیش کرے۔ قلیچ خاں نے خزانہ آگرہ کے سونے کے ذخیرے تولنے کا ارادہ کیا۔ اُس نے شہر کے بیوپاریوں سے چار سو ترازو حاصل کیے۔ یہ ترازو چار پانچ مہینے تک خزانے میں نصف رہے اور اُن میں طلائی سکّے اور سونے کی ا ینٹیں وغیرہ تولی جاتی رہیں۔ میرے والد شہنشاہ اکبر نے مجھے خزانے میں بھیجا کہ جا کر معلوم کرو کہ کتنا مال وزر تولا جا چکا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ پچھلے پانچ مہینے سے ایک ہزار آدمی چار سوترازوؤں پرسونا وغیرہ تولنے میں شب و روز مصروف ہیں ، لیکن وہ ابھی تک صرف ایک خزانے کے کچھ حصے کا وزن کر سکے ہیں۔ اس پر میرے والد نے حکم دیا کہ تولنا بند کر دیا جائے اور سونا وغیرہ خزانے میں رکھ دیا جائے۔ یہ صرف ایک شہر کا خزانہ تھا۔

Share

About admin401

Check Also

حیرت انگیز گاؤں۔ جہاں پیدا ہونے والی ہر لڑکی 12سال کی عمر میں لڑکا بن جاتی ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کیربیئن کے ایک دور دراز کے گاؤں میں  لڑکیاں جیسے ہی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com