Home / انٹرنیشنل / بالی ووڈ کے معروف ترین اداکار سنی دیول کے حوالے سے انتہائی افسوسناک خبر

بالی ووڈ کے معروف ترین اداکار سنی دیول کے حوالے سے انتہائی افسوسناک خبر

ممبئی(نیوز ڈیسک آن لائن) بھارتی اداکار اور رکن پارلیمنٹ سنی دیول کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سنی دیول بھارتی ریاست ہما چل پردیش کے شہر کولو میں موجود تھے جہاں انہوں نے کوویڈ 19 ٹیسٹ کرایا جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے، انہوں نے گزشتہ روز کولو سے ممبئی

روانہ ہونا تھا تاہم ٹیسٹ رپورٹ مثبت آنے پر خود کو ایک فارم ہاؤس میں آئسولیٹ کرلیا ہے۔ہماچل پردیش کے سکریٹری صحت نے سنی دیول کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔ سکریٹری صحت امیتابھ اوستھی نے بتایا کہ سنی دیول کچھ دنوں سے ہماچل پردیش کے کلو ضلع میں مقیم ہیں، کلو کے چیف میڈیکل آفیسر سے موصولہ اطلاع کے مطابق رکن پارلیمنٹ اور ان کے دوست ممبئی جانے کے لئے روانہ ہو رہے تھے لیکن منگل کے روز ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے بیوی کا میڈیکل کروا کے اس کی جنس کا تعین کرنے سے متعلق شہری کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں شہری عبدالقیوم کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس کی اہلیہ ایک خواجہ سراء ہے اور اس کے والدین نے دھوکہ سے اس کی شادی مجھ سے کروادی، شک پہنچنے پر میں نے میڈیکل کروانے کا کہا تو میری بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی، عدالت سے درخواست ہے کہ اہلیہ کامیڈیکل کرواکے اس کی جنس کا تعین کرے۔مقدمے کے دوران خاتون کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عبدالقیوم نے اپنی بیوی کو خود گھر سے نکال دیا جب اس نے اپنے جہیز اور نان ونفقہ کا دعویٰ کیا تو شوہر نے اس پر

الزام لگادیا کہ وہ خواجہ سراء ہے۔سماعت کےدوران عدالتی معاون نے بھی خاتون کے میڈیکل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے عبدالقیوم کو اپنے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس شواہد دینا ہوں گے، فیملی کورٹ صرف الزام کی بنیاد پر خاتون کے میڈیکل کا حکم نہیں دے سکتی۔لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فیملی کورٹ خاتون کے میڈیکل کروانے سے متعلق درخواست پر دوبارہ سماعت کرے اور جنس کے تعین سے متعلق درخواست کو زیر التوا رکھا جائے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیملی کورٹ خاتون پر لگائے گئے الزامات پر اسے طبی معائنے کیلئے مجبور نہ کرے، خاتون اگر اپنی رضا مندی ظاہر نہ کرے تو فیملی کورٹ جو مناسب سمجھے فیصلہ کردے، جنس کے تعین کیلئے میڈیکل کروانے کا حکم ناگزیر صورتحا ل ​​​​​​​ میں ہی جاری کیا جائے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق پرائیویسی کسی بھی شخص کا بنیادی حق ہے اس لیے عدالت کو کسی بھی فریق کے میڈیکل کیلئے حکم دینے سے پہلے حالات کو پرکھنا چاہئے، بنیادی حقوق کا قانون خواجہ سراؤں کے ساتھ کسی بھی امتیازی سلوک سے منع کرتا ہے۔یاد رہے کہ عبدالقیوم نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے سے قبل فیملی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جہاں سے خاتون کے میڈیکل کی درخواست مسترد ہوگئی تھی۔

Share

About admin401

Check Also

اپنے مسلمان مریضوں کیلئے کلمہ پڑھنے والی ہندو ڈاکٹر،جیسے ہی کلمہ ختم کیاتوکیاہوا؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارت میں آخری سانسیں لینے والے مریض کے لیے ہندو ڈاکٹر کلمہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com