Breaking News
Home / پاکستان / سلطان راہی کے زیرو سے ہیرو بننے کا سفر

سلطان راہی کے زیرو سے ہیرو بننے کا سفر

لاہور (نیوز ڈیسک) نامور محقق و مضمون نگار عقیل عباس جعفری بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احمد ندیم قاسمی کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا کہ ان کا تحریر کردہ افسانہ ‘گنڈاسا’ پاکستانی فلمی صنعت کی شناخت بن جائے گا۔ اس افسانے پر مبنی ایک ڈرامہ پاکستان ٹیلی ویژن نے

70 کے دہائی کے اوائل میں پیش کیا تھا جس میں مرکزی کردار منور سعید نے ادا کیا تھا۔پھر اسی افسانے کو ہدایت کار حسن عسکری نے ’وحشی جٹ‘ کی شکل میں پردہ سیمیں پر منتقل کیا۔ یہ فلم نہ صرف پنجابی زبان کی ایک رجحان ساز فلم ثابت ہوئی بلکہ اس نے فلم کے ہیرو سلطان راہی کو بھی ایک نیا جنم عطا کیا۔سلطان راہی کا اصل نام سلطان محمد تھا اور وہ 24 جون 1938 کو ہندوستان کے شہر سہارنپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد فوج میں صوبیدار میجر تھے اور ان کی تعیناتی ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہوتی رہتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد اس گھرانے نے راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ یہ ایک مذہبی گھرانہ تھا اور سلطان راہی نے بچپن ہی میں قرآن پاک تفسیر کے ساتھ پڑھ لیا تھا۔سلطان راہی کو بچپن ہی سے فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا۔ اسی شوق کے ہاتھوں وہ راولپنڈی سے لاہور چلے آئے اور سٹیج ڈراموں سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔سلطان راہی کے سوانح نگار زاہد عکاسی کے مطابق ان کا پہلا ڈرامہ ’شبنم روتی رہی‘ تھا جس میں انھوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔پاکستان ٹیلی وژن کے سابق پروڈیوسراور نامور براڈ کاسٹر عارف وقار بتاتے ہیں کہ’انھوں نے اپنے زمانہ طالب علمی اوپن ایئر تھیٹر میں سلطان راہی کو ایک ڈرامے میں اداکاری کرتے دیکھا تھا، ان کے بقول سلطان راہی کے اس اردو ڈرامے کو دیکھنے کے بعد کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ درست شین قاف کے ساتھ نستعلیق اردو بولنے والا یہ نوجوان ایک روز لڑائی بھڑائی سے بھرپور پنجابی فلموں کا سپر اسٹار بنے گا۔‘

سلطان راہی اچھے کرداروں کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ ایسے میں جب ان کی ملاقات ہدایت کار اشفاق ملک سے ہوئی تو انھوں نے سلطان راہی سے صاف صاف کہہ دیا کہ تم کبھی ایکٹر نہیں بن سکتے، مگر سلطان راہی نے ہمت نہیں ہاری۔باغی، ہیرسیال اور چند دیگر فلموں میں ایکسٹرا کا کردار ادا کرنے کے بعد انہیں ایم سلیم نے اپنی پنجابی فلم ’امام دین گوہاویا‘ میں ایک مختصر سا کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔ اسی زمانے میں ان کی چند دیگر فلمیں بھی ریلیز ہوئیں جن میں جمعہ جنج نال، چاچا جی، حاتم طائی،بھائیاں باج نہ جوڑی، جنگو، سروا سائیں، زندگی کے میلے اور ہیرا وغیرہ کے نام شامل ہیں مگر ان سب میں ان کے کردار معمولی اور قدرے غیر اہم تھے۔ 1971 میں ہدایت کار اقبال کاشمیری نے انہیں اپنی فلم ’بابل‘ میں ایک بدمعاش کا ثانوی سا کردار دیا جس سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا اور پھر انھوں نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا۔1972 میں ہدایت کار اسلم ڈار نے انہیں اپنی پنجابی فلم ’بشیرا‘ میں مرکزی کردارادا کرنے کی پیشکش کی۔ اسلم ڈار اس فلم کے مرکزی کردار کے لیے ساون کو لینا چاہتے تھے جو ان کی اسی سال کی سپر ہٹ فلم ’خان چاچا‘ میں مرکزی کردار ادا کرچکے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ساون نے اسلم ڈار سے یہ کردار ادا کرنے کا بہت زیادہ معاوضہ مانگا، چنانچہ اسلم ڈار نے اس کردار کے یے سلطان راہی کو موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ فلم بشیرا پنجابی زبان کی ایک رجحان ساز فلم کہلاتی ہے۔

اس فلم کی کامیابی سے سلطان رہی کے لیے کامیابی کی نئی راہیں کھل گئیں، ان کی شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے کہانیوں کے کردار لکھے جاتے رہے اور اگلی ربع صدی تک وہ پنجابی فلموں کے بے تاج بادشاہ بنے رہے۔1975 میں حسن عسکری نے احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’گنڈاسا‘ پر ایک فلم ’وحشی جٹ‘ بنانے کا اعلان کیا۔ اس فلم کے مرکزی کردار کے لیے ان کی نظر سلطان راہی پر پڑی۔ اس فلم نے پنجابی فلموں کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا۔ممتاز فلمی مورخ عارف اقبال نے لکھا ہے کہ 1972 سے پہلے پنجابی زبان کی فلمیں عموماً سماجی موضوعات پر بنائی جاتی تھیں اور ان کے نام بھی نہایت مناسب ہوتے تھے۔ ان کے مطابق فلم ’غیرت تے قانون‘ پہلی فلم تھی جس کا نام جرم و سزا کے تعلق سے رکھا گیا تھا۔وحشی جٹ سے پنجابی فلموں کا انداز تبدیل ہوا جسے گنڈاسا کلچر کا نام دیا گیا۔ اب سوشل اور رومانی فلموں کی جگہ پرتشدد ایکشن فلموں نے لے لی اور غنڈے بدمعاش ہیرو بناکر پیش کیے جانے لگے۔1979 میں پاکستانی فلموں میں ایک اور انقلاب آیا جب11 فروری 1979 کو ریلیز ہونے والی فلم ساز سرور بھٹی اور ہدایت کار یونس ملک کی فلم ’مولا جٹ‘ نے باکس آفس پر کامیابیوں کے تمام اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیے۔اس فلم کی نمائش ایک ایسے زمانے میں ہوئی جب جنرل ضیا الحق کا مارشل لا عروج پر تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ عدالت عالیہ میں چل رہا تھا۔ اس فلم میں سلطان راہی نے ایک نیک سیرت انسان کا اور مصطفی قریشی نے ایک شیطان صفت شخض کا کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر امجد ایوب مرزا نے اپنی کتاب ’پاکستانی سینما میں ثقافت کی جعلی نمائش‘ میں لکھا ہے کہ ’فلم مولا جٹ‘ میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی کے درمیان بڑے تیکھے جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ فلم میں نوری نت کا لہجہ ’ضیا الحق کا جیسا مکارانہ‘ جبکہ مولا جٹ کا واشگاف اور انصاف کا طالب لہجہ تختہ دار پر چڑھا دیے گئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جیسا تھا۔ یہ فلم اس وقت کے ملکی سیاسی حالات کا استعارہ تھی۔ضیا الحق نے اس فلم کی نمائش پر پابندی لگوانے کی کوشش کی لیکن سرور بھٹی کسی نہ کسی طرح عدالت سے سٹے آرڈر لینے میں کامیاب ہوگئے۔یہ فلم باکس آفس پر اس قدر ہٹ ہوئی کہ اس کی نمائش مسلسل ڈھائی سال تک جاری رہی۔ اس دوران ہزاروں لوگوں نے اس فلم کو دیکھنے کے لیے بار بار سینما گھروں کا رخ کیا۔ اگلے نو برس تک ضیا الحق برسراقتدار رہے اور اس دوران سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی جوڑی ایسی سینکڑوں کا مرکزی کردار بنی رہی جن میں ظلم و جبر کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا کہ ناظرین کو وحشی فوجی آمریت کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم معمولی لگنے لگے۔ پاکستانی سینما پر اب پنجابی فلموں کا بلاشرکت غیرے راج تھا۔‘اب سلطان راہی فلم سازوں کے لیے ایک ایسا ہیرا بن چکا تھا کہ ہر کوئی اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت لگا کر اسے حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف نظر آنے لگا۔ سلطان راہی کو فلموں میں غیر فطری کردار میں پیش کر کے فلم سازوں اپنی تجوریاں تو بھر لیں مگر ایک فن کار کے اندر چھپی ہوئی فنی صلاحیتوں کے

اعلیٰ اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی طرف قطعاً کوئی توجہ نہیں دی بلکہ اس کی ضرورت کو محسوس تک نہیں کیا۔معروف کہانی نویس ناصر ادیب کا کہنا ہے کہ انھوں نے پچیس سال تک صرف ایسی فلمیں لکھیں جو ایک جملے ’میں تینوں چھڈاں گا نئیں‘ کے اردگرد گھومتی تھیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان راہی کو اپنی ہر فلم میں یہ جملہ ضرور کہنا ہوتا تھا۔سلطان راہی نے سینکڑوں فلموں میں کام کیا، بیشتر فلموں میں ان کا کردار یکسانیت کا شکار تھا مگر اس کے باوجود چند فلمیں ایسی تھیں جن میں انھوں نے چونکا دینے والے کردار ادا کیے۔ان فلموں میں چوروں قطب، کالیا، طوفان اور مفرور کے نام سرفہرست ہیں۔ اس دوران سلطان راہی کی بہت سی فلمیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں جن میں وحشی گجر، شیر خان، سالا صاحب، چندوریام، اتھراپتر، راکا، لاوارث، شعلے، قیدی، ، مولا بخش، کالے چور، ماجھو، بالا پیرے دا اور سخی بادشاہ کے نام شامل ہیں۔سلطان راہی نے بطور فلم ساز ایک فلم ’تقدیر کہاں لے آئی‘بھی بنائی تھی۔ 1976 میں ریلیز ہونے والی یہ اردو فلم بری طرح ناکام ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے پھر کوئی فلم نہیں بنائی لیکن بہت سے فلم سازوں کو فلمیں بنانے میں مالی مدد فراہم کی۔ وہ ایک فراخ دل اور مخیر شخص تھے۔ بہت سے ہنر مندوں کے گھروں کے چولہے ان کی دریا دلی کی وجہ سے جلتے تھے۔انھوں نے ایورنیو سٹوڈیو میں ایک مسجد بھی بنوائی تھی جو اپنی نوعیت کی واحد مسجد ہے۔ وہ ایک اچھے قاری بھی تھے، جب وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے تو ایک

سماں بندھ جاتا تھا۔ سلطان راہی ایک بہت سادہ مزاج انسان تھے۔ انھوں نے انور مقصود کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ وہ کھانا بھی زمین پر بیٹھ کر کھاتے ہیں اور سوتے بھی زمین پر ہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’مجھے زمین سے بہت زیادہ محبت ہے، میں زمین کو ہمیشہ زیادہ ترجیح دیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے جانا اسی کے نیچے ہے۔‘سلطان راہی نے مجموعی طور پر 804 فلموں میں کام کیا جن میں756 فلمیں نمائش پذیر ہوئیں ان میں 538 فلمیں پنجابی زبان اور 157 فلمیں اردو زبان ، 5 پشتو اور ایک سندھی فلم شامل تھیں۔ان کی 50 سے زیادہ فلمیں ڈبل ورژن تھیں ان میں سے 430 فلمیں ایسی تھیں جن کے ٹائٹل رول سلطان راہی نے ادا کیے تھے۔ ان کی ناگہانی موت کے وقت ان کی 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں۔ سلطان راہی کی ان 800 سے زیادہ فلموں میں 28 فلمیں ڈائمنڈ جوبلی ، 54 فلمیں پلاٹینم جوبلی اور 156 فلمیں سلور جوبلی تھیں۔ایک زمانے میں سلطان راہی کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ 12 اگست 1981 کو ان کی پانچ فلمیں شیر خان ، ظلم دا بدلہ، اتھرا پتر، چن وریام اور سالا صاحب ایک ہی روز نمائش پذیر ہوئی تھیں جنھوں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے تھے۔یہ

9 جنوری 1996 کی بات ہے، سلطان راہی اسلام آباد میں امریکہ کا ویزا لگوانے کے بعد جی ٹی روڈ سے واپس لاہور آرہے تھے، ان کے ڈرائیور حاجی احسن ان کے ساتھ تھے۔ گوجرانوالہ بائی پاس پر ان کی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا۔ حاجی احسن جیک لگا کر ٹائر بدلنے میں مصروف ہوگئے کہ دو نقاب پوش لٹیروں نے سلطان راہی کی تلاشی لینے کی کوشش کی۔سلطان راہی ان کے ساتھ گتھم گتھا ہوگئے۔ لٹیروں نے گھبرا کر ہتھیار چلا دیا اور سلطان راہی زخمی ہو گئے حاجی احسن مختلف گاڑیوں کو روکنے کے لیے اشارے کرتے رہے مگر کوئی بھی گاڑی نہ رکی۔ حاجی احسن نے کسی نہ کسی طرح قریبی پٹرول پمپ پر پہنچ کر پولیس کو وقوعہ کی اطلاع دی۔ سلطان راہی کے جسد خاکی کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر سپتال پہنچا دیا گیا۔سلطان راہی کی موت کی خبر گوجرانوالہ شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اس کے پرستار جوق درجوق ہسپتال پہنچا شروع ہوگئے۔ معائنے کے بعد سلطان راہی کی میت لاہور منتقل کردی گئی۔ ان کے اہل خانہ امریکہ میں تھے، ان کے آنے کا انتظار کیا گیا اور 14 جنوری 1996 کو انہیں لاہور میں شاہ شمس قادری کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔

Share

About admin401

Check Also

یہ تو ٹریلر تھا مون سون کا پہلا سپیل کس تاریخ سے شروع ہوگا؟موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کردی گئی

یہ تو ٹریلر تھا مون سون کا پہلا سپیل کس تاریخ سے شروع ہوگا؟موسلا دھار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com