Home / انٹرنیشنل / ماڈرن دور کا ایک اور نمونہ : بالی وڈ کی نامور خاتون شادی کیے بغیر بچے کی ماں بن گئیں

ماڈرن دور کا ایک اور نمونہ : بالی وڈ کی نامور خاتون شادی کیے بغیر بچے کی ماں بن گئیں

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) اپنی مرضی سے ماں بننے کا انتخاب کرنا پانا ہی اصل آزادی ہے۔ اگر آپ کے پاس بچہ پیدا کرنے کی آزادی ہے تو آپ کا ماں بننے کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔ آج کے دور میں خوتین اپنی مرضی سے ماں بننے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ وہ ایسا کر بھی

رہی ہیں۔ نامور بھارتی خاتون صحافی چنکی سنہا بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی بغیر کسی پچھتاوے کے۔‘یہ کہنا ہے امریکہ کی فیمینسٹ مصنفہ بیٹی فرائڈن کا۔ممبئی میں رہنے والی 45 سالہ فلمساز آشیما چھبر نے 43 برس کی عمر میں آئی وی ایف ٹیکنالوجی کی مدد سے بچہ پیدا کیا اور اس کے لیے انھیں ایک پیشہ ور ٹیم کی مدد لینی پڑی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس عمر میں بچہ پیدا کرنے کی یہ واجب قیمت ہے۔آشیما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ مزید کسی مرد کا انتظار کروں جو ایک دن آئے اور میری ماں بننے کی آرزو پوری کرے۔‘آشیما نے بتایا کہ ’آج کے دور میں بچوں کی پرورش کی مدد کرنے والے شخص کا انتخاب اپنے لیے ہم سفر کے انتخاب سے زیادہ اہم ہے۔‘آشیما کے بچے کے دیکھ بھال کرنے گھر میں دو خواتین اور دوست ہی ان کے لیے خاندان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آشیما کی ماں بھی حیدر آباد سے ان کے پاس آتی جاتی رہتی ہیں تاکہ بچے کی پرورش میں مدد کر سکیں۔آشیما چھبر ایک فلم ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بچہ پیدا کرنا چاہتی تھیں لیکن اپنی پسند کا ساتھی نہ مل پانے کی وجہ سے وقت ان کے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا تھا۔جولائی 2015میں انڈین سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ ’جب کوئی سنگل مدر بچے کے برتھ سرٹیفیکیٹ کے لیے درخواست دیتی ہے تو اس پر اس بات کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بچے کے والد کا نام

واضح کرے۔ بچے کو اپنانے کے لیے والد میں خواہش کی کمی یا بچے کی فکر نہ کرنے والے باپ کا ہونا تو عام خاندانوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔جب آشیما حاملہ تھیں تو ان کی مکان مالکن نے کہا کہ انھیں ان کے اس بہادر فیصلے پر فخر ہے۔آشیما نے اپنے والدین کو اس بارے میں تب بتایا جب وہ پانچ ماہ حاملہ تھیں۔ ان کے والدین نے ان کے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔آشیما نے بتایا کہ ماں بننے کی خواہش ہمیشہ سے ان کے دل میں تھی لیکن من پسند ساتھی نہ مل پانے کی وجہ سے وقت نکتا جا رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے سنگل مدر بنے کا فیصلہ کیا۔آئی وی ایف ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے انہوں نے سپرم ڈونر کی تلاش شروع کی۔ ان کا زور پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ افراد پر تھا۔آشیما نے کہا کہ ’اس طریقہ کار میں آپ کو ذرا بھی علم نہیں ہوتا ہے کہ بچہ کیسا دکھے گا۔‘آشیما کا بیٹا شیو اب دو سال کا ہے۔ اس کا رنگ گیہواں اور بڑی بڑی آنکھیں ہیں۔انھوں نے بتایا کہ جب وہ سپرم ڈونر کے پروفائل کا انتخاب کر رہی تھیں تو انھیں ڈونرز کی تصاویر نہیں دکھائی گئیں لیکن ان کے بارے میں بنیادی معلومات ان کی پروفائل میں لکھی تھی۔آشیما نے بتایا کہ ’جب آپ ایک جوڑے کے طور پر ساتھ ہوتے ہیں تو آپ کو اپنے بچے کے بارے میں بہت کچھ پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔ لیکن میرا بیٹا مجھے ہر روز حیران کرتا ہے۔میرے ذہن میں اس بات کا کوئی تصور نہیں ہے کہ وہ بڑا ہو کر

کیسا دکھے گا۔‘آشیما کے لیے گذشتہ ایک برس بہت تسلی بخش ثابت ہوا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی خاتون کے لیے اکیلے بچے کی پرورش کرنا کوئی آسان راستہ نہیں ہوتا۔انھوں نے کہا کہ انسان کو اپنی نیت پختہ رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ان کا خیال ہے کہ بچے کو بڑا کرنے کا تجربہ کسی سنگل ماں کے لیے بہت مختلف ہوتا ہے۔مثال کے طور پر جب وہ بیٹے کو پاسپورٹ بنوانے کے لیے لے گئیں تو ان سے کہا گیا کہ وہ فارم میں بھریں کہ انہوں نے بچے کو گود لیا ہے۔فارم میں آئی وی ایف سے پیدا ہونے والے بچوں کے لیے کوئی خانہ نہیں ہے۔ آشیما نے اس بات پر زور دیا کہ بیٹے کے پاسپورٹ پر ماں کی جگہ ان کا ہی نام ہو کیوں کہ اسے پیدا کرنے والی وہ خود ہیں۔آشیما کی زندگی بچے کی پیدائش کے بعد سے مکمل طور بدل گئی ہے۔ انھوں نے ایک ساتھ کئی کام کرنا سیکھ لیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اکیلی ماں کو سماج کی جانب سے بھی ساتھ ملنا بہت ضروری ہے۔انڈیا میں شہروں میں رہنے والی خواتین کو معاشی طور پر آزادی حاصل کر پانے کی وجہ سے ایسے مشکل فیصلے لینے کی ہمت مل رہی ہے جن کے ذریعہ وہ خود کو سماجی پابندیوں سے بھی آزاد کر رہی ہیں۔انڈیا جیسے معاشرے میں عام طور پر گھروں میں مردوں کی مرضی چلتی ہے۔سنہ 2012 میں جسٹس کے ایس پٹا سوامی نے کہا تھا کہ خواتین کے پاس بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کرنے کا آئینی حق ہے۔

Share

About admin401

Check Also

اس روایت کے پیچھے 1948 میں پیش آنے والا کونسا واقعہ ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) میکڈونلڈ دو بھائیوں رچرڈ میکڈونلڈ اور موری میکڈونلڈ نے1948میں کیلی فورنیا میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com