Breaking News
Home / اسلامی / ہر جنازے کے لیے اپنی دوکان بند کر دینے والا غریب درزی کی جب وفات ہوئی تو کیا معجزانہ کام ہوا؟ ایمان افروز واقعہ

ہر جنازے کے لیے اپنی دوکان بند کر دینے والا غریب درزی کی جب وفات ہوئی تو کیا معجزانہ کام ہوا؟ ایمان افروز واقعہ

سبحان اللہ ۔۔۔۔ لکھنؤ کے ایک غریب درزی کی کہانی جو اپنے علاقے میں ہر مرنے والے کے جنازے میں شامل ہوتا تھا اور وہ اسے جیسے بھی جانا پڑے ، چاہے دکان بند کرنا پڑے یا جو بھی ہو اور کہتا تھا کہ میرے جنازے پر کون آئے گا میں تو ایک غریب آدمی ہوں اور نہ ہی کوئی

مجھے جانتا ہے ۔ اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھوی صاحب کا انتقال ہوا ریڈیو پر بتلایا گیا اخبارات میں جنازے کی خبر آ گئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ ان کا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی جگہ اس کے جنازے کو رکھ دیا گیا اعلان ہوا کہ ایک اور میت ہے اور جتنے لوگ بھی مولانا کے جنازے میں شامل تھے سارے کے سارے اس درزی کے جنازے میں شامل تھے ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ حضرت رابعہ بصری تشریف فرما تھیں کہ خادمہ نے آ کر بتایا کہ باہر کچھ پانچ مہمان ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کو بٹھائیں اور کھانا کھلائیں۔ خادمہ نے عرض کی کہ باورچی خانے میں تو صرف ایک روٹی ہے اور مہمان چار پانچ ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک روٹی لے جاؤ اور باہر جا کر خیرات کر آؤ۔ اب میری اور آپ کی سوچ تو یہی کہتی ہے کہ ایک ہے تو باقیوں کا انتظام کیا جائے نہ کے جو ہے اسے بھی باہر دے دیا جائے خیر حکم تھا رابعہ بصری کا تو تعمیل کیسے نہ ہوتی۔ خادمہ گئیں اور وہ روٹی باہر جا کر خیرات کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں ہمارے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا

آپ نے کہا دیکھو کپڑا اٹھا کر دیکھا۔ تو پانچ روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ جاؤ جلدی سے واپس کر آؤ۔ خادمہ گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں اور میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا دیکھا تو سات روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ واپس کر آؤ۔ خادمہ جلدی سے گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا من علی البابُ۔ دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے اور کہا ہے کہ آپ کو دے کر آنا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا آپ نے دیکھا تو دس روٹیاں تھیں۔ ہاں ہاں یہ ہمارا ہی کھانا ہے جاؤ مہمانوں کو کھلا دو۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ خادمہ نے عرض کی کہ پہلے جو لوگ آ رہے تھے وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ کھانا آپ کا ہے لیکن آپ نے واپس کر دیا۔ حضرت رابعہ بصری نے فرمایا میرا اللہ فرماتا ہے ایک نیکی کرو میں دس کا ثواب دوں گا میں نے اپنے اللہ سے کہا جب تک ایک کے بدلے دس نہیں دے گا تب تک تیری بندی یہ کھانا نہیں لے گی۔فرمایا گیا ہے کہ ایک ایسی امت ہو گی جو نیکی کا سوچے گی فرشتے اس کی نیکی لکھ دیں گے اور جب وہ نیکی کا کام کرے گی وہ ایک نیکی کرے گی میں دس کا ثواب عطا کروں گا۔

Share

About admin401

Check Also

حضرت خالد بن ولیدؓ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حضرت خالد بن ولیدؓ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com