Breaking News
Home / دلچسپ و عجیب / کیلے میں ہلکے سیاہ نما داغ کس بات کو ظاہر کرتے ہیں ؟ تحقیقی مقالے میں حیران کن انکشاف، بڑا راز کھل گیا

کیلے میں ہلکے سیاہ نما داغ کس بات کو ظاہر کرتے ہیں ؟ تحقیقی مقالے میں حیران کن انکشاف، بڑا راز کھل گیا

لندن(نیوز ڈیسک) پاکستان سے ترکمانستان تک، امریکا سے ایران تک، فلسطین سے کشمیر تک، آسٹریلیا سے انڈونیشیا تک لوگ اس پھل کو بس ایک کیلے کے طور پر کھاتے اور پہنچانتے ہیں، مگر یہ تکنیکی لحاظ سے بیری کی ایک نسل ہے، جو خوش قسمتی سے کیلا بن گئی۔ویب آرکائیو میںشائع

ہونے والے امریکی خاتون اسکالر جولیا مارٹن کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق کیلا تکنیکی لحاظ سے بیریز کی نسل میں سے ہے۔ موسم گرماں کے پھل کے عنوان سے لکھے گئی اس مقالے میں کیلے کی کئی اقسام بتائی گئیں ہیں، جنہیں دنیا بھر میں سبزی اور پھل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ پہلے پہل کیلا جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں ہوا، جس کے بعد یہ شمالی آسٹریلوی خطے میں پہنچا، جس کے بعد یہ تین قبل مسیح صدی میں بحیرہ روم کے خطے میں پہنچا، اور 10 عیسوی صدی تک یہ یورپ پہنچ چکا تھا۔مقالے میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے قابل 100 گرام کیلے میں 65 گرام کیلوریز، 87 گرام پروٹین، 50 ملی گرام آئرن، 25 گرام کاربوہائیڈریٹس اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں۔اس مقالے میں بیریز کے بھی کئی اقسام بتائے گئے ہیں، جو بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ دیگر فروٹس کی شکل اختیار کر گئے۔مقالے میں بتایا گیا ہے کہ کیلے میں موجود ہلکے سیاہ نما داغ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ کیلا تکنیکی لحاظ سے بیری ہی ہے۔

Share

About admin401

Check Also

10 بچے ایک ساتھ پیدا ہوگئے! پہلے بھی 2 جڑواں بچے تھے لیکن میں 10 بچوں کو ایک ساتھ پیدا کرنے والی خاتون کی دلچسپ کہانی

کچھ وقت قبل جہاں جڑواں بچوں کی پیدائش پر لوگ حیران ہوتے تھے وہیں اب …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com