Breaking News
Home / صحت / بس5روپے کا سرسوں کا تیل ! مصر اور ہندوستان کے پرانے بادشاہوں کا ہمیشہ جوان اور بے انتہا طاقتور رہنے کا وہ نسخہ جو سینکڑوں سال پرانی کتابوں میں لکھا ہے

بس5روپے کا سرسوں کا تیل ! مصر اور ہندوستان کے پرانے بادشاہوں کا ہمیشہ جوان اور بے انتہا طاقتور رہنے کا وہ نسخہ جو سینکڑوں سال پرانی کتابوں میں لکھا ہے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بس5روپے کا سرسوں کا تیل ! مصر اور ہندوستان کے پرانے بادشاہوں کا ہمیشہ جوان اور بے انتہا طاقتور رہنے کا وہ نسخہ جو سینکڑوں سال پرانی کتابوں میں لکھا ہے ۔۔۔عرب لوگ ناف پر تیل کیوں لگایا کرتے تھے ؟ کیا آپ اس کے فوائدجانتے ہیں ؟ جان کر آپ اسے روزانہ کی عادت بنا لیں گے ۔۔۔ناف گیٹ وے ہے۔ہماری زندگی میں لطیفہ نفس کا بڑا تعلق ہے۔لطیفہ نفس کاہماری

عبادات سے بڑا تعلق ہے۔ جو لوگ روح کی منازل میں ترقی چاہتے ہیں ان لوگوں کے لیے خاص طور پر ناف کو تیل لگانے کے فائدے: چہرے کے حسن و جمال کے لیے اور جنکے ہاتھ پاؤں، چہرہ،ہونٹ،باچھیں پھٹ جاتی ہوں وہ ناف کو تیل لگائے ذہنی ٹینشن، سٹریس ، اینزائٹی ، کیلیے نفساتی بیماریوں کا بڑا تعلق ہے ناف سے بچوں کو ناف میں تیل لگانے کے فائدے: بچوں کو ناف میں تیل مستقل لگانے سے ان کی نظر،حافظہ اور یاداشت تیز ہوگی۔ ان کے اعضا بہترین پھلے پھولے گئے ان کی گروتھ بہترین ہوگی ناف کیلئے ایک عمل: ناف کے اوپر انگلی رکھ کر سانس روک کر دل کی کیفیت کے ساتھ اللہ کہنا ہے اور اس تصور کے ساتھ کے ناف کے اندر جتنا بھی شر ہے، فساد ہے کیفیات ہیں نکل رہی ہیں۔ناف اور یاقہار : نماز کے بعد ناف پر انگلی رکھ کر سانس روک کر یا قہار اتنا پڑھنا کہ جب سانس ٹوٹنے لگے تو ناف کا تصور کر کے پھونک ماردیں۔جو کہتے ہیں ذکر کرتے کرتے رک جاتے ہیں، نماز پڑھتے پڑھتے چھوٹ جاتی ہے ۔جب بھی شر محسوس کریں یہ عمل کرلیں ایک بار یا چند بار۔ناف پر رات کو سونے سے پہلے ایک عمل ضرور کریں: خواتین و مرد کے تمام زیرناف مسائل یا عادت بدھ سے چھٹکارا پانے کے لیے رات کو سوتے وقت ناف پر انگلی رکھ کر سانس روک کر یاقہار پڑھنا ہے اور جب سانس ٹوٹنے لگے تو ناف کاتصور کر کے پھونک مار دیں۔صرف ایک دفعہ کرنا ہے۔

Share

About admin401

Check Also

ہر وقت گھر میں چپل پہن کر چلتے ہیں تو فوراً چھوڑ دیں کیونکہ ۔۔ ننگے پاؤں چلنے سے کون سی خطرناک بیماریوں سے بچ سکتے ہیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ہر شخص گھر میں چپل نہیں پہنتا لیک عموماً مائیں بچوں کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com