Breaking News
Home / کہانیاں / شادی کی پہلی رات جب شوہر نے بیوی کا گھونگٹ اٹھایا تو

شادی کی پہلی رات جب شوہر نے بیوی کا گھونگٹ اٹھایا تو

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ مکہ مکرمہ میں عبداللہ نامی ایک تاجر رہتا تھا لیکن رات دن کی محنت اور لگن سے اس کا کاروبار ترقی کر نے لگا قدرت بھی اس پر مہربان ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا کاروبار ملک کے تو ل و عرض میں پھیل گیا چند سالوں میں اس کا شمار ملک کے تاجروں اور سیٹھوں میں

ہونے لگا۔ دولت کا کوئی بھروسہ نہیں ہے یعنی آج ہے تو کل نہیں یہی معاملہ عبداللہ کے ساتھ بھی ہوا اس کی تجارت کو کسی کی نظر لگ گئی تھی اسے آئے دن نفع کی بجائے نقصان ہونے لگا رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے والا شخص کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا۔ اس کی جائیدار نیلام ہو گئی جمع پونجی قرض دار لے اڑے ایک دن عبداللہ روزگار کی تلا ش میں نکلا ایک گلی سے گزرتے ہوئے اس کی نظر ایک ہار پر پڑی جو زمین پر گرا ہوا تھا اس نے لپک کر اسے اٹھا لیا وہ ایک نفیس اور قیمتی ہار تھا اس نے سوچا کہ قدرت نے اس کی مدد کی ہے اس ہار کو فروخت کر کے وہ چند دن آرام سے گزار سکے گا لیکن جلد ہی اس نے اس خیال کو جھٹک دیا۔ ۔ اس ہار کے مالک کے بارے میں سوچنے لگا کہ وہ اس کی گم شدگی پر کتنا پریشان ہو گا۔عبداللہ نے عہد کیا کہ وہ اس کے مالک کو تلاش کر کے اس کی اما نت اس کے حوالے دے گا اور انہی سوچو میں گم تھا کہ اچانک فضا میں حرمِ کعبہ سے بلند ہوتی ظہر کی اذان گو نجی اس نے اپنا رخ اللہ کے گھر کی طرف پھیر لیا وہاں جا کر اس نے وضو کیا اور نہایت خوشی سے نماز
ادا کی وہ نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ اس نے

ایک اعلان سنا کہ کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ بھائیو میرا ایک قیمتی ہار کہیں گر گیا ہے ۔ اگر کسی کو مل جائے تو مجھے اطلاع کرے اللہ کا اس پر کرم ہو عبداللہ نے یہ اعلان سنا تو چو نکا ۔ اس نے اعلان کرنے والے شخص کو اشارے سے اپنی طرف بلا یا اور اس سے پو چھا کیا آپ اپنے گم شدہ کی کچھ علا مات بتا سکتے ہیں۔ کیوں نہیں جی کیوں نہیں یہ رہیں اس ہار کی علا مات یہ کہہ کر اس نے ہار کی نشانیاں بتا نا شروع کر دیں ۔ عبداللہ نے محسوس کیا کہ یہ شخص صحیح صحیح علامتیں بتا رہا ہے اور یہی اس ہار کا مالک ہے اس نے جھٹ اپنی جیب سے ہار نکا لا اور اس کے مالک کی طرف اچھال دیا مالک نے اپنے ہار کو پہچان لیا اسے چوما عبداللہ کے ہاتھ چومے اس کی پیشانی پر بو سہ دیا اور اس کے حق میں بہت سی دعائیں کی عبداللہ نے کہا کہ اس نے اس ہار کو امانت سمجھ کر اٹھا یا اب ایسے اس کے مالک کے حوالے کر کے اس کو بھی بہت ہی زیادہ خوشی محسوس ہو رہی تھی جتنی اس کے خوشی اس کے مالک کو اپنی گم شدہ چیز کو پا کر ہو رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ہار کے مالک کے سامنے اپنی تنگ دستی کا بھی ذکر کیا ۔ اس کی انہی حالات میں شادی بھی ہو گئی جب شادی کی پہلی رات وہ اپنی بیگم کے پاس گیا اور اس کا گھو نگٹ اٹھا یا تو اس نے وہی ہار اس کے گلے میں دیکھا ۔ وہی ہار چمک چمک رہا تھا جو اسے مکہ مکرمہ کی ایک گلی میں پڑا ہوا دیکھا تھا اس نے تعجب سے پوچھا کہ بیگم جان یہ ہار تم تک کیسے پہنچا دلہن بو لی میرے

با با جان عمرہ کر نے کی غرض سے مکہ مکرمہ گئے تھے وہاں انہوں نے میرے لیے وہ ہار خریدا تھا وہ بتا یا کرتے تھے کہ ایک دن یہ ہار گم ہو گیا تھا جس سے وہ بہت پریشان ہو ئے تھے ۔ ا نہوں نے حرمِ پاک میں اس کی گم شدگی کا اعلان کیا جسے سن کر ایک نیک دل اور دیانت دار نوجوان نے یہ ہار لا کر انہیں دیا تھا با با جان اس جوان کے حق میں بہت دعائیں کیا کر تے تھے ۔ ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ اللہ تجھے بھی مکہ کے اس نیک اور دیا نت دار جوان جیسا خاوند عطا فر ما ئے دلہا کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے ۔ اس نے جذبا تی آواز میں کہا اری نیک بخت آپ کے با با جان کی دعا قبول ہو گئی مکہ مکرمہ کے جس جوان کو یہ گم شدہ ہار ملا تھا اور اس نے اس کے مالک تک با حفاظت پہنچا یا تھا وہ میں ہی تو تھا ۔ سچ ہے کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اس کا صلہ ایک نہ ایک دن ضرور ملتا ہے خواہ وہ دنیا میں ملے یا آ خرت میں ۔

Share

About admin401

Check Also

پورا ایک سال وہ اپنے شوہر کی جدائی میں جلتی رہی ۔وہ جوان تھی ایک رات عشاء کے بعد اس نے اپنی پڑوسن کو بلوایا اور اپنی خواہش بتائی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صفی اللہ ایک متوسط الحال نوجوان تھا ۔ا س کے ماں باپ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com