Breaking News
Home / انٹرنیشنل / میں جب 11سال کی تھی تو میرے والدین میری شادی میرے سے کئی سال بڑے مرد سے کروانا چاہتے تھے تو مرغی نے میری جان کیسے بچائی 

میں جب 11سال کی تھی تو میرے والدین میری شادی میرے سے کئی سال بڑے مرد سے کروانا چاہتے تھے تو مرغی نے میری جان کیسے بچائی 

 کم عمری کی شادی دنیا کے بیش تر پسماندہ ممالک میں عام پایا جانے والا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ اگرچہ حکومتیں اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے طرح طرح کے اقدامات کرتی رہتی ہیں لیکن شاید یہ تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گا ۔

کہ مرغیاں اور بکریاں بھی اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ دلچسپ تجربہ افریقی ملک ایتھوپیا میں کامیابی سے کیا گیا، اور اب کئی اور ممالک میں بھی اسے آزمایا جا رہا ہے۔ ایتھوپیا میں بھی شادی کی عمر قانونی طور پر 18 سال تھی لیکن کم ہی لوگ اس قانون کو کوئی اہمیت دیتے تھے۔ چند سال قبل ایک خاتون سماجی کارکن برہان ہووان نے تجویز پیش کی کہ جو والدین اپنی بچیوں کی شادی قانونی عمر سے پہلے نہ کرنے کا عہد کریں انہیں بکریوں یا مرغیوں کی صورت میں ایک امداد دی جائے۔ اس سکیم کے تحت اگر کوئی خاندان اپنی نوعمر بیٹی کو بیاہنے کی بجائے دو سال تک سکول بھیجنے کا وعدہ کرتا تھا تو پھر اسے ایک بکری، بھیڑ یا چند مرغیاں دی جاتی تھیں۔ سال 2009ءمیں کئے جانے والے ایک سروے سے پتہ چلا کہ جن والدین نے دو سال کے لئے اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے بدلے ایک بکری یا بھیڑ لی تھی، ان بچیوں میں سے اکثریت کی شادی قانونی عمر کے بعد ہوئی ہے۔ ان بچیوں کے والدین کو بکری، بھیڑ یا مرغیاں اس وقت دی گئیں۔ جب ان بچیوں کی عمریں 10 سے 14 سال کے درمیان

تھیں۔ بعدازاں ان میں سے 90 فیصد کی شادی قانونی عمر کو پہنچنے کے بعد ہوئی۔سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین عموماً تعلیم کے اخراجات سے پریشان ہوکر بچیوں کو گھر بٹھا لیتے ہیں اور پھر جب انہیں کسی مرد کی جانب سے بھیڑ بکریوں یا مرغیوں کی پیشکش کی جاتی ہے تو اس کے بدلے وہ اپنی کم عمر بیٹی کی شادی پر تیار ہوجاتے ہیں۔ اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین نے بچیوں کے تعلیمی اخراجات کی مد میں والدین کی مدد کرنے کی تجویز پیش کی جبکہ انہیں بھیڑیں،بکریاں اور مرغیاں دینے کی سکیم بھی شروع کی تاکہ ان کی بچیوں پر نظر رکھنے والے مرد ان کے والدین کو ان چیزوں کا لالچ نہ دے سکیں۔ مرغیوں کو اس ضمن میں خاص طور پر مفید پایا گیا ہے کیونکہ لڑکیاں خود بھی ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور ان کے انڈوں کو بیچ کر اپنی تعلیمی و دیگر ضروریات پوری کرلیتی ہیں۔ ایتھوپیا کے بعد برکینا فاسو اور تنزانیہ میں بھی یہ سکیم مقبول ہورہی ہے اور اب تک ہزاروں خاندانوں کو بکریاں، بھیڑیں اور مرغیاں دی جاچکی ہیں تاکہ وہ اپنی کم عمر بچیوں کی شادی نہ کریں۔ اگر آپ ک یہ پوسٹ پسند آئے تو اسے آگے لازمی شیئر کر دیں۔

Share

About admin401

Check Also

مصباح الحق کی ماہانہ تنخواہ 32 لاکھ روپے مگر بھارتی ٹیم کے کوچ روی شاستری کی تنخواہ کتنی ہے؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

نئی دہلی (ویب ڈیسک ) قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کو ماہانہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com