Breaking News
Home / پاکستان / حکومت کا پانچ ہزار کا نوٹ بند کرنے کا فیصلہ، جلدی جلدی بنک سے رابطہ کر لیں

حکومت کا پانچ ہزار کا نوٹ بند کرنے کا فیصلہ، جلدی جلدی بنک سے رابطہ کر لیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے کرپشن پر قابو کرنے کے لیے کیئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں جہاں پہلے مرحلے پر چالیس ہزار اور پچیس ہزار مالیت کے پرائز بانڈز کی رجسٹریشن کر رہی ہے وہیں پانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ بند کرنے کا بھی حتمی فیصلہ

کر لیا گیا ہے۔ ملک کے ایک بڑے بنک کے اعلی عہدیدار نے ”اردوپوائنٹ“کو بتایا کہ حکومت نے مرحلہ وار پانچ ہزار کے نوٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ملک میں سب بڑا کرنسی نوٹ ایک ہزار روپے کا رہ جائے گا انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ بنکوں کے پاس پانچ ہزار کے نوٹوں کی تیزی سے کمی ہورہی ہے کیونکہ اسٹیٹ بنک کی جانب سے اس مالیت کے نئے نوٹ جاری نہیں کیئے جارہے. اس سلسلہ میں وزارت خزانہ کے ذرائع نے پانچ ہزار کے کرنسی نوٹ بند کرنے کی اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بنک حکام میں اس سلسلہ میں بات چیت جاری ہے انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار کے کرنسی نوٹوں کی ایک پانچ‘دس گڈیاں حبیبوں میں ڈال کر کہیں بھی لے کر جانا انتہائی آسان ہے مگر مالیت کے اعتبار سے دیکھاجائے تو پانچ گڈیاں 25لاکھ روپے بنتی ہیں انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار کا نوٹ مارکیٹ میں آنے کے بعد نہ صرف پاکستان کی کرنسی کی ویلیو گری بلکہ کرپشن میں آسانیاں پیدا ہوئیں .ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر رواں سال کے اختتام تک پانچ ہزار کے کرنسی نوٹ کو ختم کردیا جائے گا جس سے ملک کے اندر کرپشن میں بڑے پیمانے پر کمی آنے کا امکان ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پانچ ہزار کا کرنسی نوٹ مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جیسے اس وقت اسٹیٹ بنک نے پانچ ہزار کے نوٹ کی پرنٹنگ تقریبا بند کردی ہے اور زیر گردش نوٹ ہی مارکیٹ میں دستیاب ہیں آنے والے مہینوں میں اس کی پروڈیکشن مکمل طور پر بند کر کے دوسرے مرحلے میں کمرشل بنکوں کے ذریعے پانچ ہزار کے نوٹ مارکیٹ سے جمع کرنے کا کام شروع کردیا جائے گا۔

Share

About admin401

Check Also

بڑی خبر:22 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جب بھی کسی سرکاری ملازم یا سکول کے بچوں کو سرکاری …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com