Home / آرٹیکلز / اسرائیل کے حوالے سے پاک فوج کی ایک ریٹائرڈ افسر کی زبردست معلوماتی تحریر

اسرائیل کے حوالے سے پاک فوج کی ایک ریٹائرڈ افسر کی زبردست معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ افسر اور مشہور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا یہ بھی دیکھ لیں کہ اسرائیل کتنا ’بڑا‘ ملک ہے اور اس کی پشت پر ’کون‘ ہے؟…… بعض قارئین کو یہ جان کر حیرت

ہو گی کہ اسرائیل کا کل رقبہ 8000مربع میل ہے اور آبادی 95لاکھ ہے جس میں 74فیصد یہودی،20فیصد مسلمان اور باقی 6فیصد عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی پنجاب کا رقبہ 80,000مربع میل ہے یعنی اسرائیل سے ہمارا پنجاب دس گنا بڑا ہے۔ اور جہاں سارے اسرائیل کی آبادی 95لاکھ ہے وہاں ہمارے اکیلے لاہور کی آبادی ایک کروڑ 12لاکھ ہے۔ اسرائیل کے نقشے پر نگاہ ڈالیں۔ شمال میں اس کے دو شہر حیفہ اور نظارت ہیں۔ وسط میں تل ابیب اور یوروشلم ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ء اول ہے اور اب ’دِھگانے‘ سے اسرائیل کا دارالحکومت بنا دیا گیا ہے۔ آدھی سے زیادہ دنیا اسے تسلیم نہیں کرتی۔ جنوب میں صحرائے نجف ہے جس میں بیرشیبا ایک بڑا شہر ہے۔ اس آٹھ ہزار مربع میل علاقے میں 95لاکھ کی آبادی اس لئے سمائی ہوئی ہے کہ بڑے شہروں میں فلک بوس عمارات ہیں۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہر مکان میں ایک کمرہ مکمل اور محفوظ ترین ہوتا ہے جس پر کوئی جوہری اٹیک (ABC یعنی اٹامک، بیالوجیکل اور کیمیکل) کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس کے مکین ہر طرح سے محفوظ رہیں گے۔یہ وہ سہولت ہے جو دنیا کے کسی اور ملک میں موجود نہیں …… اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل کی اس قلیل سرزمین کو اتنی کثیر طاقت کہاں سے ملی؟…… اس کا جواب اس چھوٹے سے ملک کی عظیم وار ٹیکنالوجی ہے۔ اسرائیل نے کبھی ’ہاں یا نہ‘ میں جواب نہیں دیا کہ اس کے پاس کتنے نیو کلیئر وارہیڈز ہیں۔ لیکن اگر یہودی سائنس دانوں نے

امریکہ کا پہلا ایٹمی ہتھیار بنایا (جولائی 1945ء میں) تو کیا اپنے ملک کا نہیں بنائیں گے؟ …… مئی 1948ء میں جب اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے پاس ایک تربیت یافتہ اور عظیم جدید فوج تھی جس کے آفیسرز اور دوسرے عہدیدار سارے یورپ کی افواج میں مختلف عہدوں پر فائز تھے۔ ہٹلر نے ان کو مٹانے کی بہت کوشش کی لیکن یہ سخت جان قوم ’ہولو کاسٹ‘ سے پھر بھی بچ نکلی اور خود ہٹلر کو موت کو سینے سے لگانا پڑا ۔ ملک کا مغرب ساحل بحیرۂ روم کا وسیع و عریض سمندر ہے جس میں جوہری آبدوزیں دن رات گشت پر رہتی ہیں۔ ان آبدوزوں کی وجہ سے اسرائیل کو سیکنڈ سٹرائک کی اہلیت حاصل ہے۔ اسرائیل کی گراؤنڈ، ایئر اور نیول فورسز تمام کی تمام نیو کلیئر ہتھیار سے لیس ہیں۔ اس نے صحرائے نجف کے ریگستان کو گل و گلزار میں تبدیل کر دیا ہے اور کڑوے پانی کو میٹھا بنا کر اس میں باغات کا ایک وسیع سلسلہ اُگا دیا ہے…… قدم قدم پر سٹیٹ آف دی آرٹ ہتھیاروں کی فیکٹریاں ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ امریکہ، اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔ اب میں آپ قارئین سے یہ سوال پوچھتا ہوں:1۔ حماس اور حزب اللہ کی پشت پر کون ہے؟2۔کیا ایران ایک جوہری ملک ہے؟3۔اسرائیل ایک جوہری حصنِ حصیں (فولادی قلعہ) ہے جس کا توڑ آس پاس کی کسی عرب ریاست یا غیر عرب ریاست کے پاس نہیں۔ تو ایسے میں حماس یا حزب اللہ یا ایران کو کیا کرنا چاہیے؟4۔کیا بھڑوں کے اس چھتے کو چھیڑنا چاہیے؟اگر راقم السطور کو پوچھا جائے کہ فلسطینیوں کو کیا کرنا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہوگاکہ:1۔ فی الحال کچھ نہیں کرنا چاہیے۔2۔ایران کو کسی نہ کسی حیلے بہانے سے جوہری اہلیت پیدا کرنی چاہیے۔3۔روس یا چین کو ایرانی جوہری کاوشوں میں شریک ہونا چاہیے۔ لیکن کیا ایرانیوں میں اتنا صبر اور دم خم ہے کہ وہ پاکستان کے جنرل ضیا کی تقلید کر سکیں؟ پاکستانی ایٹمی طاقت عبدالقدیر خان، ضیا الحق اور غلام اسحاق خان کی مشترکہ کوششوں کا ثمر تھا جس کو ضیا الحق کی وارث افواجِ پاکستان نے اتنا ’شیریں اور لذیذ‘ بنا دیا ۔پاکستانی عوام اور پاک افواج زندہ باد!!!

Share

About admin401

Check Also

سونے کے اس پہاڑ کو حاصل کرنے کے لیے لوگ الجھیں گے اور 100 میں سے 99 لوگ

سینئر تجزیہ و کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com