Home / پاکستان / سابق چیئرمین پی سی بی شہر یار خان دراصل کس ملک کی شہزادی کے اکلوتے بیٹے ہیں ؟

سابق چیئرمین پی سی بی شہر یار خان دراصل کس ملک کی شہزادی کے اکلوتے بیٹے ہیں ؟

لاہور (نیوز ڈیسک) شہزادی عابدہ سلطان نے اپنے حالات زندگی اپنی آپ بیتی ’عابدہ سلطان: ایک انقلابی شہزادی کی خودنوشت‘ میں تفصیل سے رقم کیے ہیں جس کے مطابق وہ 28 اگست 1913 کو بھوپال کے قصرِ سلطانی میں پیدا ہوئیں۔اُن کے اکلوتے فرزند شہریار محمد خان یاد کرتے ہیں کہ جب ان کی والدہ پاکستانی سفارتخانے

سے اپنا پاسپورٹ لینے پہنچیں تو انھیں خبر ملی کہ جناح کی وفات ہو گئی ہے۔ ’اس سے خاصی تاخیر پیدا ہوئی اور آخر میں وہ محض دو سوٹ کیسوں کے ساتھ پاکستان آ گئیں۔‘شہریار خان سابق سفارت کار اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہے ہیں ادھر ہندوستان میں ریاستیں ختم ہو گئیں اور نواب بھوپال کا عہدہ ایک علامتی عہدہ بن گیا البتہ انھیں ماہانہ بنیادوں پر ایک معقول رقم ملتی رہی۔ شہزادی عابدہ نے اس سے پہلے ہی اپنے بیٹے شہریار کو بٹوارے میں ہونے والے خون خرابے سے بچانے کے لیے انگلینڈ میں نورتھ ہیمپٹن شائر کے مشہور اونڈل بورڈنگ سکول میں داخل کروا دیا تھا۔اس سوال پر کہ وہ بھوپال میں اپنا رتبہ چھوڑ کر پاکستان کیوں آئیں، شہریار خان بتاتے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے تعصب سے انھیں بہت دکھ پہنچا۔’وہ ایک خوفناک واقعہ سناتی تھیں جب مسلم پناہ گزینوں کی ایک ٹرین کسی اور ریاست سے بھوپال پہنچی۔ وہ ان پناہ گزینوں کا استقبال کرنے پلیٹ فارم پر موجود تھیں۔ جب ٹرین کا دروازہ کھلا تو اندر کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔ وہ اکثر کہتی تھیں کہ وہ منظر ان کی زنگی کا سب سے دلخراش باب تھا۔ اس واقعے کا ان کے پاکستان آنے کے فیصلے میں ایک کلیدی کردار تھا۔‘شہزادی عابدہ کو اپنے اکلوتے بیٹے کی بھی فکر تھی۔ شہریار بتاتے ہیں: ’انھیں محسوس ہوا کہ انڈیا میں میرا مستقبل برباد ہو جائے گا اور مجھے اپنے شعبے میں کبھی آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ وہ اس عیش و آرام کی زندگی کے بھی خلاف تھیں جو بھوپال

سمیت کئی ریاستوں کے نوابوں کا خاصا بن گئی تھی۔ وہ مجھے اس سب سے دور رکھنا چاہتی تھیں۔‘شہزادی خود ذو اکتوبر 1950 کو کراچی آ گئیں جہاں انھوں نے ملیر میں سکونت اختیار کی اور بہاولپور ہاؤس کے سامنے اپنی قیام گاہ تعمیر کروائی۔ ملیر کا علاقہ انھیں بہت پسند تھا اور وہ اپنے اس گھر میں 50 سال سے زیادہ قیام پذیر رہیں۔ ان کی یہیں وفات ہوئی اور وہ یہیں آسودۂ خاک ہیں۔شہریار خان بتاتے ہیں کہ وہ سنہ 1951 میں جب پاکستان آئے تو ملیر والا گھر نیا نیا تعمیر ہوا تھا۔ ’میری والدہ نے وہ گھر اپنی جمع پونجی سے تیار کروایا اور حکومت سے ان کو کچھ نہیں ملا۔ آٹھ برس تک وہاں بجلی تک نہیں تھی۔‘شہزادی عابدہ سلطان ایک نواب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ پاکستان میں ان کے تعلقات لیاقت علی خان سے لے کر محمد علی بوگرا، اسکندر مرزا، حسین شہید سہروردی، ایوب خان، یحییٰ خان اور دیگر سے قائم رہے۔محمد علی بوگرا کے دور میں انھیں اقوام متحدہ بھیجے جانے والے پاکستانی وفد میں شامل کیا گیا اور اسکندر مرزا کے دور میں انھیں برازیل میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ وہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کے بعد اس عہدے پر فائز رہنے والی دوسری پاکستانی خاتون تھیں۔ کم و بیش اسی دوران شہریار محمد خان کیمبرج یونیورسٹی سے قانون میں اپنی تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس آ گئے تھے جہاں انھوں نے سِول سروس کا امتحان پاس کر کے دفتر خارجہ میں شمولیت اختیار کر لی۔شہریار بتاتے ہیں کہ ان کی دفتر خارجہ میں ترقی پر ان کی والدہ فخر کرتی تھیں۔چار فروری 1960 کو نواب حمید اللہ خان بھوپال میں وفات پا گئے۔ اس وقت عابدہ سلطان بھوپال میں ہی موجود

تھیں۔ انھیں پیشکش کی گئی کہ اگر وہ پاکستان کی شہریت ترک کر دیں اور ہندوستان واپس آ جائیں تو انھیں بھوپال کا نواب بنایا جا سکتا ہے۔پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی شہزادی عابدہ سلطان کو یہی مشورہ دیا کہ وہ بھوپال میں رہائش اختیار کر لیں مگر شہزادی عابدہ سلطان اپنی چھوٹی بہن ساجدہ کے حق میں دستبردار ہو گئیں۔ ساجدہ سلطان کی شادی مشہور کرکٹر نواب افتخار علی خان آف پٹودی سے ہوئی تھی۔ وہ نواب منصور علی خان عرف ٹائیگر پٹودی کی والدہ اور اداکار سیف علی خان کی دادی تھیں۔سنہ 1964 میں جب پاکستان میں صدارتی انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تو شہزادی عابدہ سلطان نے جو ہمیشہ سیاست سے دور دور رہی تھیں، کونسل مسلم لیگ کی دو آنے والی رکنیت اختیار کی اور وہی تھیں جن کی کوششوں سے فاطمہ جناح متحدہ اپوزیشن کی نمائندہ کے طور پر ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے پر آمادہ ہوئیں۔شہزادی عابدہ سلطان نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ فاطمہ جناح ایک معمولی اکثریت سے صدارتی انتخاب جیت گئی تھیں مگر ان کی اس فتح کو شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔اس کے بعد شہزادی نے کئی پیشکشوں کے باوجود عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ وہ شاید پاکستانی سیاست کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں یا شاید پاکستان کی سیاست ان کے معیار پر نہیں آتی تھی۔انجم نعیم رانا اور اردشیر کاؤس جی‎ لکھتے ہیں کہ شہزادی اپنی کار ہمیشہ خود چلاتی تھیں۔ ایک مرتبہ انھیں اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے گلشن اقبال جانا پڑا تو وہ اپنی کار خود چلا کر گئیں اور واپس بھی خود ہی چلا کر لائیں۔ان کا تیراکی، ٹینس اور نشانے بازی کا سلسلہ بھی 70 سال کی عمر تک جاری رہا۔ عمر کے آخری حصے میں ان کے محلے کے نوجوان ان کے گھر آ جایا کرتے تھے جن کے ساتھ وہ ٹیبل ٹینس اور شطرنج کھیلا کرتی تھیں۔1980 کی دہائی میں انھوں نے اپنی ڈائریوں کی مدد سے اپنی یادداشتوں کو قلم بند کرنا شروع کیا جو سنہ 2002 میں ان کی وفات سے محض ڈیڑھ ماہ قبل مکمل ہوئیں اور سنہ 2004 میں Memoirs of a Rebel Princess کے نام سے انگریزی میں اور سنہ 2007 میں ’عابدہ سلطان: ایک انقلابی شہزادی کی خودنوشت‘ کے نام سے اردو میں شائع ہوئیں۔

Share

About admin401

Check Also

شیخ رشید کی شادی میری وجہ سے نہیں ہوئی کیونکہ انھوں نے میرا سب کچھ ۔۔۔۔۔ حریم شاہ کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) معروف ٹک ٹاکر اورسیاستدانوں کے ساتھ ویڈیوز سے شہرت حاصل کرنے والی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com