Home / پاکستان / اس خبر کو وزیراعظم عمران خان تک پہنچانے کے لیے ضرور شیئر کریں

اس خبر کو وزیراعظم عمران خان تک پہنچانے کے لیے ضرور شیئر کریں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمود شام اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تصور کیجئے، اُن ماں باپ پر جو 50دنوں سے اپنے اکلوتے 22سالہ بیٹے

کی شکل دیکھنے کے لئے دریائے جہلم کے کنارے خیمہ زن ہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی جنہیں انصاف نہیں مل رہا۔ باپ پاکستان کی قدیم ترین درسگاہ

گورنمنٹ کالج جھنگ میں پنجابی کے لیکچرر ہیں۔ اُردو پنجابی کے مقبول شاعر بشارت وقار، صاحبِ مطالعہ، 15مئی سے وہ اس کرب میں مبتلا ہیں۔ قانون اور انصاف کے سب دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت ہے اور انصاف اسی پارٹی کے بااثر منتخب لوگوں کی سفاکی کے باعث عنقا ہے۔ تھانہ کوٹ شاکر ضلع جھنگ میں ایف آئی آر JNG KOT 000974، 21مئی 2021 سے درج ہے۔ 22سالہ توقیر عباس بی ایس اُردو فائنل سمسٹر کا طالب علم، اپنے ہی رشتے داروں کی

آتشِ انتقام کی نذر ہوا ہے۔ ظلم کرنے والے اتنے بارسوخ ہیں کہ سوشل میڈیا پر فریاد بھی بےاثر ہو گئی ہے۔ 17مئی کو چار بہنوں کے اکلوتے بھائی کو اس کے اپنے رشتے دار دریائے جہلم پر لے گئے اور 30فٹ گہرے پانی میں ڈبو دیا۔ بدلہ اس بات کا لیا گیا کہ ملزمان 22سالہ توقیر عباس کی شادی جبری اس سے 15سال بڑی اپنی طلاق یافتہ بہن سے کروانا چاہتے تھے۔ انکار پر اس کی زندگی سے ہی کھیلنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ ایف آئی آر کہہ رہی ہے۔ماں باپ، چار چھوٹی بہنیں دریا کے

کنارے خیمہ زن ہیں۔ نوجوان بیٹے کی آرزو میں۔ اطلاعات کے اس دَور میں جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں پولیس نہ تو زندہ توقیر عباس کو ڈھونڈ سکی ہے اور نہ ہی اس کی میت تلاش کر سکی ہے۔ ملزمان نامعلوم نہیں ہیں۔ بشارت وقار اکیلے ہی جگہ جگہ فریاد کررہے ہیں۔ ان کے پروفیسر، لیکچرر ساتھی بھی مجبور ہیں، خاموش ہیں۔ بہنیں پورے پاکستان سے سوال کررہی ہیں کہ ہمارا اکلوتا بھائی ہمیں کون واپس دلائے گا؟

Share

About admin401

Check Also

پاکستان کی معروف اداکارہ کی طبیعت انتہائی ناساز،ہسپتال منتقل

پاکستان کی معروف اداکارہ کی طبیعت انتہائی ناساز،ہسپتال منتقل لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان کی سینئر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com