Breaking News
Home / پاکستان / قیامت یا کچھ اور 14دسمبر کو پوری دنیا تاریکی میں ڈوب جائے گی

قیامت یا کچھ اور 14دسمبر کو پوری دنیا تاریکی میں ڈوب جائے گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے

سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے

فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے۔ اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔ سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس

لیے سائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ

دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں رواں سال 2چاند 2سورج گرہن ہوئےٹونٹی20کا پہلا چاند گرین10 اورگیارہ جنوری کی درمیانی شب کو ہوا تھا جو پاکستان میں بھی نظرآیا ،،،رواں سال کا دوسرا چاند گرہن 5اور 6جون کی درمیانی شب کو جبکہ پہلا سورج گرہن 21جون کو ہوا جو پاکستان میں دیکھا گیا تھا اور اب

رواں سال کا چھوتھا اور آخری سورج گرہن 14دسمبر کو دیکھا جائے گا ،سال 2020 کا پہلا چاند گرہن پاکستان کے مقامی وقت کےمطابق صبح دس بج کر 8 منٹ پر شروع ہواجبکہ مکمل گرہن 12 بج کر 10 منٹ پر لگا تھا سال کے پہلے چاند گرہن کے نظارے کو دنیا بھر میں دیکھا گیا تھا ۔۔۔اور اب سال

کا آخری گرہن لگنے جا رہا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا پہلے سورج گرہن کے متعلق کہنا تھا اس سال 2 بار سورج کو اور 4 بار چاند کو گرہن لگے گا، اس سال کا دوسرا گرہن 14 دسمبر کو ہو گا۔انہوں نے 14 دسمبر کو ہونے والے رواں سال کے دوسرے سورج گرہن سے متعلق بتایا کہ وہ پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا

Share

About admin401

Check Also

مدینہ منورہ پہنچتے ہی وزیراعظم عمران خان کا ایسا اقدام کہ پاکستانی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے

مدینہ منورہ پہنچتے ہی وزیراعظم عمران خان کا ایسا اقدام کہ پاکستانی دھاڑیں مار مار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com