Breaking News
Home / آرٹیکلز / پاکپتن شریف میں بابا فرید گنج شکرؒ کے مزار پر جو شخص آئے اسکے ساتھ ایک کام نہ ہو تو سمجھیے وہ بہت بدقسمت ہے ۔۔۔۔ ایک خصوصی تحریر

پاکپتن شریف میں بابا فرید گنج شکرؒ کے مزار پر جو شخص آئے اسکے ساتھ ایک کام نہ ہو تو سمجھیے وہ بہت بدقسمت ہے ۔۔۔۔ ایک خصوصی تحریر

لاہور (نیوز ڈیسک) 1947-48ء میں پاک پتن کی آبادی بہت کم تھی۔ اس کے دو حصے تھے۔ زیادہ لوگ اس ٹیلے پر آباد تھے جس کو ’اتاڑ‘ کہا جاتا تھا اور یہ ایک وسیع سطح مرتفع تھی۔ یہاں بھی حضرت بدرالدین اسحاق کا مزار تھا جن کے عقد میں حضرت بابا فرید کی دو بیٹیاں تھیں۔

پاک فوج کے سابق افسر اور نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ان کا عرس بھی بڑے تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ مقامی زبان میں اسے ’جھجروں والا میلہ‘ کہا جاتا ہے۔ زائرین مٹی کی جھجریوں میں شربت بھر کر یہاں لاتے ہیں اور مقامی لڑکے بالے اور پیرو جواں سب کے سب زائرین کے ہاتھوں سے یہ جھجریاں چھین کر بھاگ جاتے ہیں۔ یہ ”بھاگ دوڑ“ اس عرس کی ایک دلچسپ اور خاص رسم ہے۔ جو زائر اپنی جھجری سلامت لے کر مزار تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ بدنصیب ہے اور اس کی مراد پوری نہیں ہوتی۔میرا آبائی گھر اس مزار سے صرف 150گز دور تھا اور ہم بڑی شدت سے اس عرس کا انتظار کیا کرتے تھے۔ شربت سے لبریز جھجری (مٹکی) کسی زائر سے چھین کر بھاگ جانا اور زائر کا ہمارے پیچھے بھاگنا رہ رہ کر یاد آتا ہے۔ اور جب وہ قریب آتا تو اس کے پاؤں میں جھجری پھینک کر اس کو روکنا، ایک عجیب تماشا ہوتا تھا…… پاک تین کے اس حصے کو ’ہٹھاڑ‘ کہا جاتا تھا جو ’اتاڑ‘ کے چاروں طرف نیچے اس کے دامن میں پھیلا ہوتا

تھا۔ آج کل تو ’اتاڑ‘ سنسان سا ہو گیا ہے۔ ساری آبادیاں ’ہٹھاڑ‘ میں بس گئی ہیں۔ اگلے روز اتاڑ کا میرا ایک ہمسایہ ملنے آیا تو بچپن کی یادوں کا ایک سیلاب بہہ نکلا۔ جس کسی کو پوچھتا، جواب ملتا کہ اس کا انتقال ہو گیا ہے!…… تقریباً 90% دوست احباب، بزرگ، عورتیں اور مرد اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں …… معلوم ہوتا ہے کہ اب لوگ پاک پتن کے ساتھ شریف کا لاحقہ نہیں لگاتے۔ ریلوے اسٹیشن پر شاید آج بھی ”پاک پتن شریف“ ہی لکھا ہو گا، میں نے چیک نہیں کیا۔لیکن شرفِ شرافت تو مکانوں سے نہیں، مکینوں سے ہوتا ہے …… میرے بچپن کے دوست عمر نے آکر جب سے یہ بتایا کہ جنگل کے تقریباً سارے ہی مجنوں مر گئے ہیں تو جنگل کی اداسی پر میرا اپنا دل بھی کافی دنوں سے اداس ہے۔ سوچا کہ آج کا کالم اداسی کی یاد میں سپردِ قلم کروں ۔ ہر روز عصرِ امروز کے گورکھ دھندے سلجھانے میں فکر و عمل کی بہت ساری ساعتیں گزر جاتی ہیں، سوچا عہدِ ماضی کی یادوں کو بھی کبھی ان ساعتوں کا حصہ بناؤں ۔ سو آج کا کالم غیر روائتی سہی ، زندگی کے انمٹ نقوش کا آئنہ دار تو ہے

Share

About admin401

Check Also

حکیم محمد سعید نے ایک بار کہا تھا : میں حیران ہوں کہ جس بندے کی خوراک میں یہ چیز شامل ہو وہ ۔۔۔۔

حکیم محمد سعید نے ایک بار کہا تھا : میں حیران ہوں کہ جس بندے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com